بھٹکل 3/اکتوبر (ایس ا و نیوز) سوسالہ قدیم قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے انتخابات پیر کو کامیابی کے ساتھ مکمل ہوئے جس کے چھ حلقوں کی 20 نشستوں کے لئے 37 اُمیدوار میدان میں تھے۔ انتخابات میں عوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور 1191 ووٹروں میں سے 817 اراکین نے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے 20 اُمیدواروں کو منتخب کرکے تنظیم کی نئی انتظامیہ میں روانہ کیا۔
جیت درج کرنے والوں کے نام اس طرح ہیں:
وارڈ نمبر 1: عبدالباسط دامدا ابو (93 ووٹس)، عبدالرحمن سیاّف (86) ووٹس اور محمدعظیم محتشم (84 ووٹس)
وارڈ نمبر 7: عزیزالرحمن رکن الدین ندوی (75 ووٹس) اور محمد نجیب شاہ بندری (55 ووٹس)
وارڈ نمبر 8: عبدالماجد رکن الدین (202 ووٹس)، عبدالعظیم دامدا ابو (182 ووٹس)، محمد جعفر حیدر (140 ووٹس) ، علی عمران موٹیا (129 ووٹس) اور عتیق الرحمن شاہ بندری (113 ووٹس)
وارڈ نمبر 9: عبدالسمیع میڈیکل (106 ووٹس)، محمد صادق مٹّا (100 ووٹس) اور مبشرحُسین ہلارے (92 ووٹس)
وارڈ نمبر 10: محی الدین جیلانی شاہ بندری (102 ووٹس)، جاوید آرمار (92 ووٹس) اور ابوالحسن محتشم (88 ووٹس)
وارڈ نمبر 12: بلال احمد قمری (104 ووٹس)، عبدالسلام رکن الدین (94 ووٹس)، سید وسیم برماور (91 ووٹس) اور محمد اشرف صدیقی (80 ووٹس)
بھٹکل تنظیم بلڈنگ اور رابطہ بلڈنگ میں بیک وقت صبح نو بجے انتخابات کا آغاز ہوا اور شام ٹھیک پانچ بجے انتخابی کاروائی مکمل ہوئی۔ پہلی مرتبہ ڈیجیٹل پولنگ کے ذریعے اراکین نے اپنی ووٹنگ درج کرائی ۔ اس تعلق سے الیکشن کمشنر محی الدین الطاف کھروری نے بتایا کہ ڈیجیٹل پولنگ کے لئے انجمن بی بی اے اور بی سی اے کالج کے پروفیسر حسن صاحب نے کالج طلبہ کی ایک ٹیم ترتیب دیتے ہوئے ایک پروگرام ڈیزائن کیا تھا اور نئی ٹیکنالوجی اور ائیڈیاز کو متعارف کرایا تھا۔ یہ تجربہ نہایت کامیاب رہا۔ پروفیسر حسن صاحب اور ان کی ٹیم نے پوری جانفشانی کے ساتھ انتخابی کاروائی کو تکمیل تک پہنچایا اور بمشکل دس منٹ کے اندر تمام نتائج ظاہر ہوگئے۔ ایک طرف ووٹروں نے ڈیجیٹل پولنگ کی ستائش کی وہیں عوام نے صاف و شفاف انتخابات کرانے پر الیکشن کمشنر اور ان کے معاونین کی خدمات کی بھی سراہنا کرتے ہوئے انہیں مبارکباد سے نوازا۔
تنظیم ہال میں ایک بڑے اسکرین پر تمام چھ پولنگ حلقوں کے نتائج کا اعلان کیا گیا اس موقع پر الیکشن کمشنر سمیت ان کے معاونین مولوی یاسر برماور ندوی اور یونس رکن الدین موجود تھے، جبکہ انتخابات میں کھڑے ہونے والے کئی نمائندوں سمیت اُن کے کافی حامی بھی موجود تھے۔
بتاتے چلیں کہ وارڈ نمبر 1 میں ووٹروں کی تعداد 161 ہے، جس میں سے 109 ممبران نے پولنگ کی، اس طرح یہاں کی پولنگ کی شرح 67.70 فیصد درج کی گئی۔ وارڈ نمبر 7 میں 117 ووٹروں میں سے 86 نے ووٹنگ کی، پولنگ کی شرح 73.50 فیصد رہی، وارڈ نمبر 8 میں 303 میں 214 نے پولنگ میں حصہ لیا، جملہ پولنگ 70.62 فیصد رہی۔ وارڈ نمبر 9 میں 163 ووٹروں میں 121 ووٹروں نے پولنگ میں حصہ لیا ، یہاں کی پولنگ 74.23 فیصد درج کی گئی۔ وارڈ نمبر 10 میں 192 میں 115 ووٹروں نے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ پولنگ کی شرح 59.89 فیصد درج کی گئی اور وارڈ نمبر 12 میں جملہ 256 ووٹروں میں 172 نے پولنگ میں حصہ لیا اور پولنگ کی شرح 67.18 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اس طرح 1191 ووٹروں میں سے 817 نے پولنگ میں حصہ لیا اور جملہ ووٹنگ کی شرح 68.59 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھٹکل کے سات حلقوں میں بلامقابلہ 15 اراکین کا انتخاب ہوچکا ہے۔